گزشتہ دنوں دوران سفر میرا گزر جنوبی پنجاب کے ایک شہر کے ایک پرانے فلائی اوور سے ہوا۔ ٹیکسی ڈرائیور (جنکا نام نعیم تھا) اور میرے درمیان جو بات چیت ہوئی وہ قارئين کی دلچسپی کے لیے حاضر ہے۔

نعیم: بھائی صاحب آپ کے پاس اڈے تک پہنچنے کے لئے کتنا وقت ہے؟
میں: کافی وقت ہے، بس کو آنے میں ابھی آدھا گھنٹہ ہے۔ مگر کیوں؟

نعیم: کیوں کہ آگے پل آرہا ہے۔ آپ کے پاس چوائس ہے، نیچے سے جانے میں بظاہر زیادہ فائدہ ہے، مگر پھاٹک بند ہوا تو انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسلئے پوچھا ہے۔
میں: مگر ہمیں تو فلائی اوور سے ہی جانا چاہیے، کیوں کہ فلائی اوور بناۓ ہی اسی مقصد کے لیے جاتے ہیں کہ وقت بچے اور انتظار کی تکلیف بھی نہ اٹھانی پڑے، کیا خیال ہے؟

نعیم: آپکی بات ٹھیک ہے مگر یہاں معاملہ کچھ الٹ ہے۔
میں: وہ کیسے؟

نعیم: یہ پل کافی پرانا ہے، اس پر سے گزرنا کافی خطرناک ہے۔ گر گیا تو ہماری جان جا سکتی ہے- آپکا تو پتا نہیں مگر میرے بچے رل جائیں گے۔ پھر بھی آپ ہمارے شہر میں مہمان ہیں تو میں یہی چاہتا ہوں کہ آپکو اس فلائی اوور پر سے ہی لے جاؤں۔
میں: مگر ابھی آپ نے کہا کہ نیچے سے جانے میں فائدہ زیادہ ہے اور رسک بھی کم ہے۔ ہمارے پاس وقت بھی ہے۔

نعیم: جی ہاں، اوپر سے جانا خطرہ سے بھرپور تو ہے مگر اس میں ایک پرابلم کا حل بھی ہے۔
میں: ہیں؟ پرانے فلائی اوور سے گزرنے میں بھلا کیا علاج کسی پرابلم کا؟

نعیم: بلکل ہے۔ آئیں آپکو بتاتا ہوں۔
میں: (دل میں آیت الکرسی پڑھتے ہوۓ) جی۔

نعیم: (جنہوں نے اب فلائی اوور کے عین اوپر ٹیکسی سائیڈ پر لگا دی ہے) بھائی یہ فلائی اوور 100 فیصد پاکستان جیسا ہے۔ آپ جیسے لوگ اصل میں اس پر کسی دقت یا تکلیف سے بچنے کو آتے ہیں مگر ٹوٹی ہوئی خستہ حال سڑک کافی تکلیف دیتی ہے۔ یہ دیکھیں حفاظتی گرل ٹوٹی ہوئی ہے اور اسکا لوہا تک یہاں کے لوگ اکھاڑ کر لے گئے ہیں، جس سے زندگی کو خطرہ بہت بڑھ گیا ہے۔ کئی بار معمولی مرمت بھی کی گئی ہے مگر پھر لوگ اکھاڑ دیتے ہیں۔ اس فلائی اوور پر بہت سے حادثات ہوۓ ہیں، جن میں بہت سی قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔
میں: بھائی اب چلیں، میری بس مس نہ ہو جاۓ-

نعیم: جی جی بلکل- (نیچے اترتے ہوۓ)۔ دیکھا فلائی اوور پر چڑھنے سے پہلے آپکو ڈر محسوس نہیں ہوا تھا۔ یہاں سے اترتے ہی آپکا خوف پھر دور ہو جائیگا۔ مگر۔۔۔
میں: (بات کاٹتے ہوۓ) مگر کیا؟

نعیم: اگلی مرتبہ پھر آپکی چوائس نیچے والے راستے کی بجاۓ فلائی اوور ہی ہو گا۔ کیوں کہ ہم سب پھاٹک پر انتظار کرنے سے ڈرتے ہیں اور فلائی اوور نیچے سے بہت دلکش محسوس ہوتا ہے۔ اوپر جاتے ہی لوگ کلمہ پڑھنے لگتے ہیں اور کہتے ہیں جلدی اترو۔
میں: سب فلائی اوورز جو ایسے نہیں ہوتے؟

نعیم: میں نے کب کہا ایسا؟
میں: لوگ کیا پتا دوسرے فلائی اوورز پر گزرنے کے اچھے تجربہ کی وجہ سے بھی تو اس پر سے گزرنا پسند کر سکتے ہیں؟

نعیم: جی بلکل۔ مگر یہ اس شہر کا واحد فلائی اوور ہے، لوکل لوگوں کو پتا بھی ہے کہ یہ خطرناک ہے مگر وہ بھی اسی پر سے گزرتے ہیں۔
میں: تو اسکی تعمیر و مرمت کبھی تو ہو ہی جاۓگی۔

نعیم: ہاں ہو جاۓگی۔ مگر پھر ایسا ہی ہو جاۓ گا۔
میں: پھر حکومت ایسا کیا کرے کہ یہ ایک بار اچھی مرمت کے بعد کبھی بھی غیر محفوظ نہ ہونے پائے؟ جیسے لاہور، اسلام آباد یا دبئی کے فلائی اوورز بھی تو ٹھیک رہتے ہیں؟

نعیم: جی ہاں، یہ بھی ٹھیک رہ سکتا ہے اگر اسکی بار بار مرمت سے پہلے یہاں کے باسیوں کو اچھی تعلیم دی جاۓ، انکی ذہنی پسماندگی اور بیمارياں دور کی جائیں، یہاں سے غربت ختم کی جاۓ، پھر پل پر سے نہ لوہا چوری ہو گا، نہ حادثہ ہو گا، لوگوں کو تمیز بھی آجاۓگی اور نیت بھی ٹھیک ہو جاۓگی سب کی۔
میں: آپکا مطلب ہے پہلے یہاں کے لوگوں کی معاشی حالت ٹھیک ہونی چاہیے؟

نعیم: جی ہاں
میں: اچھا یہ سب کیسے ہو گا؟

نعیم: یہ تو آپ جیسے پڑھے لکھے لوگوں نے سوچنا ہے نا۔ سب میں ہی بتاؤں؟
میں: آپ بھی کافی پڑھے لکھے محسوس ہو رہے ہیں، بتا ہی دیں۔

نعیم: ہوں تو میں ٹیکسی ڈرائیور، لیکن بتا دیتا ہوں- لوگوں کو سب سے پہلے یہ سکھائيں کہ وہ اپنا کوئی چھوٹا یا درمیانہ کاروبار کیسے کر سکتے ہیں۔ صرف دوسروں کی یا سرکار کی نوکری کے لئے نہ پڑھیں، کاروبار کریں۔
میں: آپ نے خود اس پر عمل کیا؟

نعیم: جی بلکل، مجھے صرف ڈرائیوری کا ہنر آتا تھا، اب یہ کارمیری ذاتی ہے۔ ایک اور شخص بھی میری نوکری کرتا ہے۔ یعنی میری ایک اور کار بھی ہے، پتہ ہے وہ تب تک امیر نہیں ہو سکے گا جب تک خود مالک نہیں بن جاتا۔
میں: زبردست، آپ کسی پرابلم کا ذکر بھی کر رہے تھے؟

نعیم: ہاں جی، وہ چوائس والی بات نا؟ پاکستان بس ایسا ہی ہے، اس خستہ پل جیسا، مسلسل خطرے میں ہے، یا تو نیچے سے نکل جائيں اور پھاٹک والا رسک لے لیں، یاپھر اوپر آئيں، حقیقت سمجھيں، عارضی مرمتوں کی بجاۓ، حقیقی مرمت کرنے میں کردار ادا کریں۔

میں: بہت شکریہ، یہ لیں پیسے، اللّه حافظ
نعیم: خیر سے جائيں، لاہور کو سلام کہنا، بہت اچھا شہر ہے، خدا حافظ۔

Also published at HumSub (https://www.humsub.com.pk/403382/dr-muhammad-ayyoub-10/), dated 04/07/2021.

How useful was this post?

Click on a star to rate it!

Average rating 4.7 / 5. Vote count: 12

No votes so far! Be the first to rate this post.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *