آج میں نے لکھنے کے لیے کاغذ قلم اٹھایا تو سوچ میں پڑ گئی کہ کیا لکھوں؟ کیوں کہ ہر دور کے مختلف تقاضے اور ضرورتیں ہوتی ہیں تو اعلیٰ تعلیم اور مستقبل کی منصوبہ بندی لازم و ملزوم ہیں۔ سنہرے مستقبل کے خواب ان دونوں کو ساتھ لے کر چلنے سے ہی پایۂ تکمیل کو پہنچتے ہیں۔ ان سب باتوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے میرے ذہن میں کچھ سوال آئے ہیں۔

کیا یہ وہی علم ہے جس کو حاصل کرکے نفع حاصل ہو گا؟ کیا یہ وہی علم ہے جس کو ہمارے دین نے حاصل کرنا ہم پر فرض قرار دیا ہے؟ کیا یہ وہی علم ہے جس کو حاصل کرنے کے لیے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ “علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے”؟ آج کے نوجوان کو دیکھتی ہوں تو میری روح کانپ اٹھتی ہے کہ کیسا علم حاصل کر رہے ہیں، کیسا علم حاصل کریں جس سے ان کو اچھائی برائی میں فرق نظر کرنے میں دقت ہو رہی ہے، ان کی تعلیم و تہذیب کو زنگ لگ چکا ہے، ان کے ذہنوں کو کس چیز کی طرف مائل کیا جارہا ہے؟ ہمارے آج کے نوجوان، جو ہمارے ملک کے کل کا مستقبل ہیں، کی بنیادی ضروریات یہ ہیں کہ انٹرنیٹ پر فحاشی اور بےہودگی دیکھ رہے ہیں، اور یہ ان کے لیے ایک ٹرینڈ بن چکا ہے۔ آج جب میں یوٹیوب دیکھتی ہوں تو دنگ رہ جاتی ہوں کہ کیسے بزرگوں کا احترام پامال کیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا مثلاً ٹک ٹاک وغیرہ پر کیسے عورت اپنے “علم” کا پرچار کرتی نظر آتی ہے۔ انسٹا گرام پر کیسے کسی کی عزت کی دھجیاں اڑا دی جاتی ہیں۔

کیا ہمیں علم حاصل کرنے کا اس لیے حکم دیا گیا تھا کہ ہم اپنے آباؤاجداد کی ورثے میں ملی ہوئی ہدایات کو چھوڑ کر اس بے راہ روی پر لگ جائیں؟ ہمیں انسان کو اشرف المخلوقات اس لیے بنایا گیا تھا کہ ہم اپنا اصل مقام پہچاننا چھوڑ دیں اور اس طرح فحاشی کی راہ پر لگ جائيں۔ کیا ہمیں تمام فرشتوں، جانوروں اور دیگر مخلوقات سے برتر اس لیے بنایا گیا تھا کہ ہم ہدایت کو چھوڑ کر بے راہ روی کی طرف نکل آئیں تو مجھے آج یہ کہتے ہوئے کوئی عار نہیں کہ ایسی نوجوان نسل کے لئے شرم کا مقام ہے۔ افسوس ہے اس ملت کے تمام نوجوانوں پر جو اپنے اصل مقصد کو بھول چکے ہیں۔

علم ہمیں سیدھی راہ دکھاتا ہے، بھٹکاتا نہیں ہے۔ علم ہمیں روشنی دیتا ہے، ہمیں اندھیروں سے نکالتا ہے لیکن آج شاید اندھیروں کو ہم نے اپنا اصل مان لیا ہے۔ موجودہ دور جو سائنسی اور صنعتی ترقی کا دور ہے آج انسان نے ایجادات کرکے بہت ترقی تو کرلی ہے لیکن اخلاقی معیار کی پستی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ دوسروں کا سامنا کرنے کو تیار نہیں- اپنی غلطی ماننے کو تیار نہیں ہے تو کیا فائدہ ایسے علم کا، کیا حکم ہے کہ اشرف المخلوقات ہو کر اپنی حالت کو نہ پہچان سکے، دنیا میں انہوں نے ترقی کی ہے جو اپنی نوجوان نسل کو عہد حاضر کی ضروریات سے ہم آہنگ کروا کر جدید علوم سے آراستہ کرتے ہیں۔

اس حقیقت سے انکار نہیں ہے کہ نوجوانوں کو علم و ہنر کی ترغیب دے کر ہماری ہی قوم کا بھلا ہو سکتا ہے لیکن میں چاہتی ہوں کہ ہماری قوم کے نوجوان راہ راست پر آجائیں اور اپنی اقدار کو سنجیدگی سے لیں، اور اسی طرح ہماری حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ فنی تعلیم پر زیادہ زور دیتے ہوۓ علم و ہنر کو فروغ دے اور انٹرنیٹ پر فحش مواد کو ختم کریں تاکہ ہمارے نوجوان جو بھٹک چکے ہیں راہ راست پر آ سکيں۔ زبانی کلامی دعوئوں اور کھوکھلے نعروں سے نہیں البتہ عملی اقدامات کر کے اس کو قابو کیا جا سکتا ہے۔

نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہوتو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

How useful was this post?

Click on a star to rate it!

Average rating 4.2 / 5. Vote count: 29

No votes so far! Be the first to rate this post.

23 Replies to “علم و ہنر اور آج کا نوجوان — اریج فاطمہ”

  1. You have written a very good article on the emotions and feelings that can awaken the humanity inside a person, but when the mind becomes hollow, the emotions and feelings do not work. We pray that Mulla will bring everyone on the right path and May he succeed in this world and in the hereafter, Amen

  2. Its All about the mind growth, subcontinent k log zra unmatured hen, bari jaldi hi choti choti bt pe unhen werghlaya ja skta he, hmari 70 percent youth mein self decision ki ability hi nhi he, ye smjhny se wo qasir hen un k liye kya sahi he or kya ghlt, hmara moashra esa he k jis mein qaom parasti ka silsila urooj pr he, choo k ziada abadi pakistan ki rural areas se talluq rakhti he, waha aik qoum jo zra kamzor he usy kbi bhi kamyabi ki tarf nhi jaany diya jata, nasl dar nasl ehsas e kamtari ka shikaar rehti hen wo qoumein, jo k jab success ki hope nhi ho gi to automatically muashra or youth negativity ki tarf jaye gi, main ye smjhta hun k waqt k sath sath sab set ho jaye ga jesy jesy mulk taraqi ki tarf jaye ga, ye psychy he jisy maghrbi log bht achy triqy se smjhty hen esi liye aye din koi na koi new app ko introduce krwaty hen, esa nhi he k positivity nhi he achy log bhi dekhny ko milty hen lkn ye Kch highlighted bten hen jo k qabil e ghor hen.

  3. Bht zbrdst bht he aala likha h aj ki young generation apne apko deen.e.islaam se bht dur le kr jaa ri h jo k muslmaano k zwaal ka baayis bn ri h hmein jis mqsad k liye is dunia me bheja gya h hm insaano ne usay he bhula diya h hmara mqsad hmaara nutfa he deen.e.islaam ki wja se dunia me aya mgr afsos hm aj apne deen ko bht peechay chor aye hn

    1. Thank you 💕 Your kind words means to me alot ❣️ I’m blessed to have you in my life 😘❤️

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *