بچپن میں باٹا اور سروس کمپنیز کے جوتوں کی قیمت 499 یا 599 دیکھ کر حیرت ہوتی تھی کہ یہ سیدھے سے 500 یا 600 روپے قیمت لکھ کر وصول کیوں نہیں کرتے ہیں۔ جب کہ ایک روپیہ تو دکاندار واپس ہی نہیں کرتے ہیں۔ بڑے ہو کر پتہ چلا کہ یہ گاہک کو نفسیاتی طور پر خریداری پر مائل کرنے کا اک طریقہ ہوتا ہے۔ 599 اور 600 روپے میں بظاہر کوئی فرق نہیں ہے اور ایک روپیہ واپس بھی نہیں ملتا، مگر یہ حربہ کسٹمر کی نفسیات پراثر انداز ضرور ہوتا ہے۔

یہ سیاق و سباق پیش کرنے کا مقصد صرف ہماری سوسائٹی میں موجود اس سے اگلے لیول کی مائیکرو کرپشن پر روشنی ڈالنا ہے۔ کچھ روز پہلے کسی کام کے سلسلے میں لاہور سے شیخوپورہ جانے کا اتفاق ہوا تو ٹول پلازہ پر کرپشن کی ایسی ہی قسم دیکھنے کو ملی۔ جہاں کار کے گزرنے کے چارجز مبلغ 51 روپے مقرر کیے گئے ہیں۔ میرے دوست نے 50 کا نوٹ دیا تو ڈیوٹی پر مامور ورکر نے ایک روپے مزید کی ڈیمانڈ کی۔ جب 10 کا نوٹ دے کر باقی کی رقم مانگی تو موصوف نے 5 روپے کا سکہ ہاتھ پر رکھ دیا۔ جب کہ رسید 51 روپے کی ہی جاری ہوئی۔ اب لاہور سے شیخوپورہ روزانہ کتنی ٹریفک آتی جاتی ہے اسکا اندازہ آپ خود لگا لیں۔ باقی کی ساری کہانی آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے۔

کرپشن کی ایک مائیکرو قسم یہ ہے کہ گاہک بھاؤ تاؤ کے دوران ہی فریش یا خشک فروٹ کی ریڑھی سے تھوڑی سی چیز اٹھا کر منہ میں ڈال لیتا ہے۔ فروخت کار کا غصہ اسوقت دیدنی ہوتا ہے جب گاہک سودا نہ بننے پر یونہی چلتا بنتا ہے۔ اسی طرح سودا بیچنے والا بھی مائیکرو کرپشن کرتے ہوۓ ایک یا دو پھل خراب ڈال دینے میں مضائقہ نہیں سمجھتا اور اکثر دو چار روپے واپس بھی نہیں کرتا۔

آج کل ایسی ہی کرپشن اوبر یا کريم کے کیپٹنز اور فوڈ پانڈا کے رائیڈرز میں بھی پائی جاتی ہے جو ٹپ لینے کے لیے ذرا انتظار کرنا مناسب نہیں سمجھتے اور 40-35 روپے ڈیلیوری چارجز لینے کے باوجود “کھلے نہیں ہیں” کہ کر 20-15 روپے کا ٹیکہ کسٹمر کو لگا دیتے ہیں۔ اسی طرح کچھ کسٹمرز بھی اتنے شاندار ہوتے ہیں کہ اپنی لوکیشن غلط پوسٹ کرنے کی غلطی بھی رائیڈر کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں اور کوشش یہی کرتے ہیں کہ رائیڈر دو چار روپے الٹا انکو ہی چھوڑ جاۓ۔ کرپشن کی ایسی ہی مائیکرو اقسام کا مشاہدہ فوٹوکاپی کی شاپس اور بس ٹرمینلز کے آس پاس کی دوکانوں پر بھی عمومی طور پر کیا جا سکتا ہے۔

مائیکروکرپشن کا یہ مشاہدہ نام نہاد دوستوں کے ساتھ لین دین اور رہنے سہنے میں بھی کیا جا سکتا ہے۔ کچھ چالاک ‘دوست’ بہت جلد یہ اندازہ قائم کر لیتے ہیں کہ کونسا دوست کسی مشترکہ چیز کی پیمنٹ میں کیسا ہے۔ اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پھر اسکی سخاوت کی ‘تعریف’ کر کے اسے لیبل کر دیتے ہیں کہ اسکا دل بہت کھلا ہے۔ حالانکہ اس کے دل سے زیادہ چالاک دوست کا دماغ تنگ ہوتا ہے۔

ہو سکتا ہے کچھ لوگ یہ تحریر پڑھتے ہوۓ بھی سوچ رہے ہوں یا تبصرہ کریں کہ لكهاری بہت ہی چھوٹے دل کا محسوس ہوتا ہے جو اتنی باریکی سے دو، دو روپے کو کرپشن کہ رہا ہے۔ حالاں کہ ایسا سوچنے والے وہی لوگ ہوتے ہیں جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ کیوں کہ یہاں دو دو، چار چار روپے کی بات کی بجاۓ اس بدنیتی کا ذکر کیا جا رہا ہے جو مائیکروکرپٹ لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ اور انہیں یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ بد نیتی پر مبنی یہ مائنڈسیٹ اگلی نسلوں میں ایک ‘نارمل’ رویہ کے طور پر منتقل ہو کر انہیں مرحلہ وار طریقے سے ‘میگا یا میکروکرپٹ’ کرتا ہے۔ یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ ترقی یافتہ ملکوں یعنی مغرب میں میگا کرپشن کے بارے میں ذاتی طور پر جاننے کی کوئی پوزیشن تو مجھے کبھی حاصل نہیں رہی مگر سینٹرل یورپ میں کئی سال گزارنے کی بنیاد پر پورے وثوق سے کہ سکتا ہوں کہ مائیکروکرپشن کی یہ اقسام میں نے وہاں کبھی بھی نوٹس نہیں کیں۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں حکومتی ادارے مثلاً اینٹی کرپشن اور نیب وغیرہ تو میگا یا میکرو کرپشن مثلاً ٹھیکوں کے کمیشن اور اختیارات کے غلط استعمال اور آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے والوں کو پکڑنے میں مصروف عمل ہیں تو کرپشن کی اس مائیکرو قسم کی روک تھام کیسے ہو؟ تو اسکا بہت سادہ سا جواب ہے کہ یہ کام مشترکہ طور پر ٹیچرز اور والدین کا ہے کہ ناصرف خود ایسی کرپشن کو کرپشن سمجھیں بلکہ اپنے سٹوڈنٹس اور اولاد کی سماجی تربیت کرتے وقت کرپشن کی ان مائیکرو اقسام کو بھی ذہن میں رکھیں۔

How useful was this post?

Click on a star to rate it!

Average rating 3.7 / 5. Vote count: 6

No votes so far! Be the first to rate this post.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *