گزشتہ کئی روز سے پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر 3.94 فیصد جی ڈی پی گروتھ کا بہت چرچا ہے۔ ایک طرف حکومت اور پی ٹی آئی کے حامی ہیں، جو مسلسل یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ ملک معاشی ترقی کی منازل بہت تیزی سے طے کر رہا ہے اور عوام کا میعار زندگی بلندی کی جانب گامزن ہے۔ جبکہ دوسری طرف اپوزیشن اور ان کے سپورٹرز ہیں جو اسے سراسر جھوٹ اور عوام کے ساتھ دھوکہ دہی قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق ملک اور عوام کی معاشی حالت بہت بری ہے اور لوگوں کی بنیادی ضروریات بھی پوری نہیں ہو رہیں۔ اس ضمن میں ایسے قارئین کی دلچسپی کے لئے چند گزارشات پیش خدمت ہیں جنہوں نے اقتصادیات یا اکنامکس کی خصوصی تعلیم حاصل نہیں کی۔

تفصیل میں جانے سے پہلے اگر میں نمبر 3.94 % کی بات کروں تو قطعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک حقیقت ہے، اور سالانه پیداواری اضافہ کا یہ تخمینہ بالکل ٹھیک ہے۔ اس میں جھوٹ یا دھوکہ دہی کا عنصر سرے سے موجود نہیں ہے۔ مگر جیسا کہ وزیر اعظم عمران خان اور ان کے وزراء نےاپنےٹویٹس میں کہا کہ یہ “گروتھ” کے اعشاریے ہیں اور معیشت اور اہم سیکٹرز کی بحالی وی طرز پر متوازن ہے، تو ان اصطلاحات کا استعمال تکنیکی اعتبار سے غلط ہے۔ دوسرا ان اعشاریوں کا موازنہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے اعداد و شمار سے کرنا بھی بوجوہ ٹھیک نہیں ہے- اسلئے ہم کہ سکتے ہیں کہ ظاہری طور پر 3.94 % میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے خوشی کا جواز موجود ہے، مگر حقیقی طور پر عشق کے بہت سے امتحان ابھی باقی ہیں۔

پہلے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ جی ڈی پی کا نمبر 3.94 % کیسے جھوٹ یا غلط نہیں ہے؟ دراصل کورونا کی وبا کی وجہ سے گزشتہ مالی سال (20-2019) کے دوران ملکی معیشت کو لاک ڈاؤن اور غیر يقینیت کی وجہ سے شدید نقصان پہنچا تھا۔ جس کے باعث زراعت، صنعت اور سروسز سیکٹرز کی پیداوار میں کافی کمی ہوئی اور انکی “سالانہ پیداواری تبدیلی” باالترتیب 3.31 %، 3.77- % اور 0.59 – % رہی۔ جو ظاہر کرتے ہیں کہ صنعت اور سروسز سیکٹرز زیادہ نقصان کی زد میں آئے اور معیشت کی سالانہ “مجموئی پیداواری تبدیلی” کی اوسط منفی (0.35- فیصد) ہو گئی۔ جب کہ حالیہ مالی سال (21-2020) کے پہلے نو مہینوں میں ان سیکٹرز میں “مجموئی پیداواری تبدیلی” باالترتیب 2.77 %، 3.57 % اور 4.43 % رہی ہے جنکی اوسط 3.59 % بنتی ہے۔ حکومتی معاشی ماہرین پچھلے سال کی منفی مجموعی تبدیلی کی اوسط (0.35 % -) کو اس سال کی مثبت اوسط تبدیلی کے ساتھ ملا کر زیادہ سے زیادہ 3.94 % ظاہر کرنے میں کامیاب ہوۓ ہیں حالانکہ تکنیکی اعتبار سے نہ تو ان نمبرز کو “اکنامک گروتھ” کا نام دیا جاسکتا ہے اور ناہی معاشی تصورا ت میں ایسی جمع تفریق کی گنجائش ہے، اور “وی طرز کی بحالی” والی بات میں سے بھی “وی” صرف اسطر ح ٹھیک ہے کہ جو جی ڈی پی پچھلے سال کم ہو کر 263 بلين ڈالرز ہو گئی تھی وہ اب دوبارہ 296 بلين ڈالرز ہو گئی ہے۔ جو فی کس آمدنی پچھلے سال کم ہو گئی تھی اب بحال ہو گئی ہے۔ قومی آمدنی کے تمام اعشاریوں میں تقریباً 14-13% سالانہ مثبت اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور اگر مہنگائی کی تقریباً 10% شرح منفی کر دی جاۓ تو اس سال حقیقی ملکی آمدنی میں تقریباً 4 % اضافہ ہوا ہے۔ جیسا کہ مجموعی برآمدات میں پچھلے سال کی نسبت 14% اور ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات میں 17% اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ختم ہو کر مثبت ہوا ہے۔ پچھلے سال کے مقابلے میں ان 9 ماہ میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافہ ہوا ہے۔ گندم کی پیداوار میں بہتری آئی ہے۔ اس طرح ہم کہ سکتے ہیں کہ پچھلے سال کی نسبت موجودہ سال میں معاشی بہتری ضرور ہوئی ہے اور معیشت ناصرف مزید بد حال ہونے سے بچی ہے بلکہ اسکے قدم بحالی کی طرف بھی اٹھے ہیں۔ سادہ الفاظ میں یوں کہ لیں کہ جو معیشت 19-2018 میں “بدحال” تھی وہ 20-2019 میں کورونا کی وجہ سے “مزید بدحال” ہو گئی تھی۔ 21-2020 میں اس معیشت میں سے صرف “مزید” نکلا ہے۔ اسے آپ اپنی معاشی ٹیم کی کامیابی کہیں یا خودکار میکانزم کا کمال، مگر اسکو کسی طور بحالی، متوازن گروتھ یا معاشی ترقی کہنا مناسب نہیں ہے۔

علم اقتصادیات یا اکنامکس کی معمولی سمجھ بوجھ رکھنے والے لوگ بھی جانتے ہیں کہ معاشی ترقی اور اکنامک گروتھ کثیرالجہتی اور لمبے عرصہ کے تصورات ہیں۔ ان کی پیمائش ایک یا دو سال کی پیداواری تبدیلیوں کے اعداد و شمار سے قطعاً ممکن نہیں ہے، کیوں کہ معاشی نمو کے ٹھیک تجزیہ کے لئے ضروری ہے کہ اگلے کئی مالی سالوں (مثلاً کم از کم 15-10 سال) کے دوران جی ڈی پی میں اضافہ اسی شرح سے مستقل ہوتا رہے، اور معیشت کے تمام اہم سیکٹرز متوازن ترقی کریں تو یہ کہا جا سکے گا کہ ناصرف معیشت بحال ہو گئی ہے بلکہ جی ڈی پی گروتھ کی شرح یا معاشی ترقی مستحکم ہے۔ وگرنہ گروتھ کے تجزیہ میں چھوٹے عرصہ کے یہ اتارچڑھاؤ اتنی اہمیت کے حامل نہیں سمجھے جاتے ہیں

معیشت کی بحالی، جی ڈی پی اور فی کس آمدنی میں اضافہ اور متوازن گروتھ کے لئے ضروری ہے کہ لمبے عرصہ تک قومی آمدنی میں اضافہ کی شرح آبادی میں اضافہ کی شرح سے زیادہ رہے، بچتوں اور نئی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو، مہنگائی میں اضافہ اتنا نہ ہو کہ صارفین کی قوت خرید میں ہی کمی ہو جاۓ، روزگار میں اضافہ ہو، ایسے پروجیکٹس پر کام کا آغاز ہو جو اشیا و خدمات کی مجموعی طلب میں مستقل نوعیت کا اضافہ کریں۔ ناصرف کاروبار میں ٹیکنالوجی کا فروغ ہو بلکہ اسکا استعمال لوگوں کی پیداواری صلاحیت اور ذہنی استعداد میں بھی اضافہ کرے۔ سائنسی اور سماجی علوم میں ریسرچ کا فروغ ہو اور شہریوں کے عمومی رویوں میں مثبت تبدیلیاں واقع ہوں- سرکاری اور پرائیویٹ ادارے منظم اور خود مختار ہوں۔ اور وسائل کے استعمال کے لئےماحول دوست پالیسیاں تشکیل دی جائيں۔ ان کے علاوہ بھی بہت سے عوامل ہیں جن پر گروتھ کا انحصار ہے، مگر ایسا صرف تبھی ممکن ہے جب یہ لمبے عرصہ کے لئے مستحکم پالیسیاں تشکیل دی جائيں۔ تب ہی یہ ممکن ہو سکے گا کہ لوگوں کا میعار زندگی بہتر ہو، غربت اور دولت کی غیر مساوی تقسيم میں کمی ہو، پھر لوگوں کو جی ڈی پی گروتھ کے دعوے جھوٹے یا کھوکھلے نہیں لگیں گے۔ اس لئے ہم کہ سکتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت کو حقیقی معنوں میں بحال ہونے کے لیے ابھی کافی سفر طے کرنا باقی ہے

How useful was this post?

Click on a star to rate it!

Average rating 4.3 / 5. Vote count: 15

No votes so far! Be the first to rate this post.

One Reply to “جی ڈی پی گروتھ کا نمبر 3.94، حقیقت یا فسانہ”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *