کورونا وائرس کی نئی قسم (کووڈ-19) نے پچھلے ایک سال سے کچھ ہی زیادہ عرصہ میں جہاں ہماری دنیا کو تقریباً ہر لحاظ سے نقصان اور چند محدود صنعتوں کو ہی فائدہ پہنچایا ہے۔ دنیا کے تقریباً ہر حصہ میں، چاہے ترقی یافتہ ہوں یا پسماندہ، لوگ کثیر تعداد میں جاں بحق ہوئے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ہمسایہ ملک بھارت میں جو قیامت اس وائرس نے ڈھائی ہے اس نے ہر طرف خطرے کی گھنٹیاں بجادی ہیں۔ اور تقریباً ویسی ہی خوف کی فضا قائم ہو گئی ہے جو اس سے پہلے اٹلی، برازیل اور امریکا سے آنے والی خبروں نے پیدا کی تھی۔ اس سے بڑا خطرہ اور المیہ کا خدشہ اس بات سے ہے کہ وائرس مسلسل اپنی نوعیت تبدیل کر رہا ہے برطانوی قسم ابھی کنٹرول میں نہ آئی تھی کہ افریقی اور برازیلین اقسام بھی پاکستان میں رپورٹ ہوگئی ہیں۔

جہاں تک وائرس کے معاشی اثرات کو زیر بحث لانے کی ضرورت ہے تو یہ بات اب کسی سے پوشیدہ نہیں کہ کورونا وائرس نے صحت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی خصوصاً آنلائن ایجوکیشن کی صنعتوں کے علاوہ تقریباً ہر انڈسٹری کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ سیرو سیاحت ہو یا ایئر لائن انڈسٹری، صنعتی شعبہ ہو یا سروسز سیکٹر، بیرونی تجارت ہو یا چھوٹی ملکی صنعتیں، سب لاک ڈاؤن اور معاشی عدم يقینیت کے باعث تباہی کا سامنا کر رہے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں ہمیں دو دھاری تلوار پر چلنے جیسی صورت حال کا سامنا ہے۔ حکومت اگر لاک ڈاؤن کرتی ہے تو بھوک اور غربت سے لوگوں کی اموات کا خدشہ ہے، کاروبار کھلا رکھتے ہیں تو کورونا کے کاری وار اور معاشرتی جہالت کے لے ڈوبنے کا اندیشہ ہے۔ ایک اکانومسٹ ہونے کے ناطے میں پورے وثوق سے کہ سکتا ہوں کہ کورونا وائرس سے ہونے والے جانی نقصان سے کئی گنا زیادہ معاشی نقصان ہو رہا ہے- کیوں کہ جہاں جسمانی بیماری سےاب تک ملک میں لگ بھگ بیس ہزار سے کم لوگوں نے جان سے ہاتھ دھویا ہے تو مزید کئی ملين افراد غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے ہیں جن کو دوبارہ معاشی طور پر مستحکم کرنے میں کافی وقت درکار ہوگا- وگرنہ بھوک کے ساتھ ساتھ انکی خودی پر لگنے والی ضربیں اور عزت نفس کی کمی انکو روزانہ کی بنیاد پر بہت سالوں تک تکلیف پہنچاتی رہےگی۔

ایسے حالات میں ہمیں صحت کی حفاظت کے ساتھ ساتھ جہاں کسی بڑے انسانی المیے سے بچنے کا سوچنا ہے تو اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہمارا معاشی نقصان کم از کم ہو اور ہم محدود وقت میں غربت کی لکیر سے نیچے جانے والوں کو ناصرف واپس اوپر لےکر آئیں بلکہ مستحکم شرح نمو کا حصول یقینی بنائیں اور ایسا صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ہماری صنعتيں اور کاروبار چلتا رہے۔ جب اشیاو خدمات کی مجموعی طلب کم نہ ہونے پاۓ اور بےروزگاری میں اضافہ نہ ہو۔ جب انسانوں اور اشیا کی نقل و حمل متاثر نہ ہو۔ موجودہ حالات میں ایسے خواب کی تعبیر صرف ایک ہی صورت میں ممکن ہے وہ یہ کہ ملک میں بسنے والے 220 ملین میں سے زیادہ تر افراد میں کورونا وائرس اور اسکی مختلف اقسام کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہو جاۓ۔ کورونا وائرس کے خلاف قوت مدافعت یا تو ان افراد میں پیدا ہوتی ہے جو اس وائرس کا شکار ہو کرصحت مند ہو جائیں یا لوگوں میں مصنوئی قوت مدافعت ویکسین لگا کر پیدا کی جاۓ۔ ایک معاشیات دان اپنے ملک کے لوگوں کو جلد از جلد ویکسین لگوانے کا مشورہ صرف اسلئے دے رہا ہے کہ یہ جسمانی یا حفظان صحت سے کہیں بڑا مسئلہ اقتصادیات کا ہے۔ اگر اس وقت اس مسئلہ کا کوئی اور حل آپ تجویز کر سکتے ہیں تو ضرور کریں مگر کاروبار کو جاری رکھنے اور معیشت کا پہیعہ گھومتا رکھنے کے لئے پاکستان کے عوام کی اکثریت کو ویکسین کے ذریعے قوت مدافعت پیدا کرنا ہو گی۔

مختلف رپورٹس نے ظاہر کیا ہے کہ حال ہی میں جن ممالک میں انسانوں کی نقل و حرکت میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور جہاں کے لوگ ماسک کے بن ہی کاروبار اور تفریح کر رہے ہیں ان میں اسرائیل سرفہرست ہے۔ BBC اور دوسرے عالمی نشریاتی اداروں نے وہ گراف ہیڈ لائنز میں ظاہر کیے ہیں جن کے مطابق اسوقت جب باقی ملکوں میں لاک ڈاون ہو رہا ہے تو اسرائیل ان ملکوں میں سرفہرست ہے جہاں نقل و حرکت میں اضافہ اور اموات میں کمی ہو رہی ہے اور پچھلے کئی روز سے ایک بھی فرد کی موت کورونا سے نہیں ہوئی ہے۔ ایسا بھلا کیسے ممکن ہوا؟ صرف اسلئے کہ وہاں ویکسین لگوانے والے فی کس لوگوں کی تعداد پوری دنیا میں ابھی تک سب سے زیادہ ہے- دوسری طرف NCOC کی طرف سے آج جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ابھی تک صرف 7 لاکھ 11 ہزار 400 افراد کی کورونا ویکسینیشن مکمل ہوئی ہے جو کل آبادی کا ایک فیصد سے بھی کم ہیں۔ ایسی صورتحال کے ساتھ اتنی زیادہ گنجان آبادی والے ملک میں کاروبار اور اقتصادی معاملا ت کو چلانا اور معیشت سے غیر یقینیت کی صورتحال کو ختم کرنے کی امید بھی کرنا خام خیالی سے زیادہ کچھ نہیں ہو گا۔

جہاں تک ویکسین کے مضراثرات کا تعلق ہے تو یہ اگرچہ میڈیکل سائنس سے متعلق سوال ہے مگر میں ذاتی تجربہ کی روشنی میں کہ سکتا ہوں کہ کورو نا ویکسین کی دونوں خوراکیں لگوانے کے باوجود میں نے کسی قسم کے منفی اثرات محسوس نہیں کیے اور کورونا ویکسین کو مکمل طور پر محفوظ پایا ہے۔ یہ نا صرف ہمیں بلکہ ہمارے ساتھ رہنے والوں کو بھی خطرہ سے بچاتی ہے۔ میڈیکل سائنس پر اعتماد اسلئے بھی کیا جا سکتا ہے کہ یہ ہماری زندگیوں کو پہلے بھی محفوظ اور آرام دہ بنانے میں اہم کردار ادا کر چکی ہے- اور اب یہ ہمیں جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ بہت سی معاشی بیماریوں سے بچانے میں بھی نا صرف موثر ہے بلکہ ہمارے ملک کے لاکھوں لوگوں کو غربت اور بےروزگاری جیسی آفت سے بچانے میں کردار ادا کر سکتی ہے- اسلئے دیر نہ کریں اور جو لوگ بھی 40 سال یا زیادہ عمر کے ہیں وہ اپنا شناختی کارڈ نمبر 1166 پر بھیج کر رجسٹریشن کروانے کے بعد ویکسین لگوانے کی مفت حکومتی آفر کا فائدہ اٹھائیں اور ناصرف اپنی اور اپنے پياروں کی زندگی بلکہ معاشی خطرات کو کم سے کم کرنے میں اپنا اخلاقی اور اجتماعی کردار ادا کریں۔

Published in Daily “Khabrain” dated 06.05.2021, and Daily “Multan Valley” dated 08.05.2021.

How useful was this post?

Click on a star to rate it!

Average rating 5 / 5. Vote count: 2

No votes so far! Be the first to rate this post.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *